Author name: Dr. Nawab Ahmad

English, Whats New

The Qur’an Vs Science on the Creation of the Universe (Part-02)

This section explains how the Qur’an contains signs of creation meant for later generations, guiding sincere minds toward truth. It clarifies common questions about God’s use of “We,” the timing of these signs, and human freedom in belief, reminding readers that true guidance comes through reflection and openness.

The Qur’an Vs Science on the Creation of the Universe (Part-02) Read Post »

English, Whats New

The Qur’an Vs Science on the Creation of the Universe (Part-06)

This part examines objections claiming that scientific signs in the Qur’an are simply modern reinterpretations. It explains why these claims fail and how subtle verses on deep nature were intended for future understanding, as indicated in 41:53. The post highlights the importance of correct interpretations in today’s scientific age to strengthen belief and recognize the Qur’an’s authenticity.

The Qur’an Vs Science on the Creation of the Universe (Part-06) Read Post »

English, Whats New

The Qur’an Vs Science on the Creation of the Universe (Part-05)

This section addresses common objections about scientific signs in the Qur’an, showing that claims of non-scientific intent or Greek influence fail under closer analysis. It highlights how Qur’anic verses align with modern scientific understanding despite being revealed long before such knowledge existed.

The Qur’an Vs Science on the Creation of the Universe (Part-05) Read Post »

English, Whats New

The Qur’an Vs Science on the Creation of the Universe (Part-01)

This essay explains how the Qur’an guides humanity with divine truth while offering unique signs of God’s creation. It clarifies misunderstandings, shows why these signs appear only in the Qur’an, and encourages readers to reflect deeply on God’s message with sincerity, understanding, and peace.

The Qur’an Vs Science on the Creation of the Universe (Part-01) Read Post »

Urdu, قرآن کا بیان عام فہم ہے

قرآن کا بیان عام فہم ھے۔ حصہ دوم

قرآن کا بیان عام فہم ہے۔ حصہ دوم ترجمہ اور تفسیر- سوره رحمٰن کی ابتدائی آیات حصہ دوم ”البیان“ کا مفہوم لفظ ”بیان“ سے مراد بنیادی طور پر statement ہے جو الفاظ پر مشتمل ہوتا ہے، جبکہ جانوروں کی زبان الفاظ پر مشتمل نہیں ہوتی۔ پھر موقع اور محل کی مناسبت سے اس کا مطلب دھمکی ، نصیحت، اعلان، اعادہ وغیرہ ہوسکتا ہے۔ کیونکہ یہ سب بیان کی مختلف شکلیں ہیں۔ آپ اپنی بات دوسرں تک واضح کرنے کیلئے ایک ”بیان“ دیتے ہیں۔ اسی طرح دوسروں کے ”بیان“ سے آپ ان کا مدعا سمجھ لیتے ہیں۔ گویا آپ اسے کلام کا ہم معنی کہہ سکتے ہیں۔ خود قرآن نے اپنے لیے [انسانوں کیلِئے] اللہ کا کلام (9:6) اور [اللہ کا] انسانوں کیلئے بیان [3:138] کے الفاظ استعمال کئے ہیں۔ چونکہ کلام یا بیان کی صلاحیت مجموعی طور پر ہر شخص میں مختلف ہوتی ہے، اسی لیئے یہاں ”بیان“ سے قبل ”ال“ کا اضافہ کردیا گیا ہے۔یعنی بیان کی وہ صلاحیت جو ہر شخص کو پرورش کے دوران اور بعد کے وقتوں میں حاصل ہوجاتی ہے۔ چونکہ علماء اور دانشور حضرات کلیتاً لغت میں دیے ہوئے معانی پر انحصار کرتے ہیں اسی لیئے کسی نے اس کا مطلب محض گویائی یا اظہار مافی الضمیر(expressing the intended meaning) تک محددو کردیا ہے، کسی نے اس کے معانی”فرق و امتیاز“ کئے ہیں، صحیح انٹرنیشنل ترجمہ میں اسے(eloquence) کہا گیا ہے۔ واضح رہے کہ لغت میں اسکا ایک معنی statement بھی ہے۔ شایدstatement عربی سے انگریزی لغت میں ہے، اس لئے یہ معنی ہمارے علماء کو پسند نہیں آیا۔ بہرکیف، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نزولِ قرآن کے وقت تو اہل عرب کی غالب اکثریت ناخواندہ تھی، پھر کیا ناخواندہ لوگ علمی باریکی سے تعریف کردہ (academically finely defined) الفاظ بولتے اور سمجھتے ہیں۔ اس سے تو کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ ”بیان“ ایک عام لفظ ہے جسے ایک ان پڑھ انسان بھی استعمال کرتا تھا اور کرتا ہے۔ زیادہ تر علماء نے ”بیان“ کو “اظہار مافی الضمیر” قرار دیا ہے۔ لیکن یہ صلاحیت تو اللہ تعالیٰ نے جانوروں کو بھی دی ہے۔ اگرچہ ان کی زبان ہم سے بہت مختلف ہوتی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہمارے علماء لغت اور قواعد سے باہر زبان کے فطری زاویوں کا ادراک ہی نہیں کرسکتے۔دوسری طرف ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان”امی“ (ناخواندہ) عربوں سے کہا تھا کہ یہ قرآن”مبین عربی“ میں ہے۔ یعنی تم جس عربی کو مبین (صاف اور واضح) طور پر جانتے اورسمجھتے ہو، یہ قرآن اسی عربی زبان میں ہے۔ المختصر، انسان اپنی پرورش اور بعد کے وقتوں میں ایک یا کئی زبانیں بولنا اور سمجھنا سیکھ لیتا ہے۔ قرآن نے ہر فرد کی اسی زبان و بیان کی صلاحیت کو ” البیان“ کہاہے۔ نوٹ :۔ آیت میں ” کلام“ کی بجائے ”بیان“  کا لفظ استعمال ہوا ہے جس  سے  ظاہر  ہوتا  ہے کہ کلام کے مدعا (intended meaning) پر زور دیا گیا ہے۔ یہ قرآن کا مدعا ہے۔ جس کو جاننا ضروری ہوتا ہے۔ ورنہ اللہ تعالیٰ کے کلام کی پوری لسانی اور ادبی تفصیل کو سمجھنا ممکن ہی نہیں ہے۔ واضح  رہے کہ ”بیان“ کا مقصد دراصل  مدعا یا intended meaning کا دوسرے تک ابلاغ ہے۔ جبکہ کلام میں یہ بات بھی شامل ہے اور دیگر خوبیاں مثلا لسانی حسن، ادبی حسن، موسیقیت یا غنائیت  اور شاعرانہ احساسات وغیرہ بھی شامل ہیں۔ ” الرحمٰن“ کی وضاحت اکثر علماء”الرحمٰن ہ علم قرآن ہ“ کو ایک جملہ مانتے ہیں۔ یعنی وہ ”الرحمٰن“ کو مبتدا ( فاعل کے برابر) خیال کرتے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ الیسے علماء قرآن میں ” آیت ” کے تصور سے واقف نہیں ہیں۔ مختصر یہ کہ تقریر کے شروع میں محض ایک لفظ کہہ کر ایک لمبا وقفہ دینا اسی صورت میں حکیما نہ یا مناسب ہوسکتا ہے جب مقرر پوری بات کو ایک لفظ سے ظاہر کر رہا ہو۔ ھہاری نگاہ میں خدا کا اپنی ہدایتی تقریر(guidance speech) کے شروع میں”الرحمٰن“ کہہ کر وقفہ کر لینے کے دو مطالب ہوسکتے ہیں : 1۔ الله انسانوں پر بہت زیادہ مہربان ہے۔2۔ اے انسانوں، غور سے سنو، اللہ جو نہایت رحم کرنے والا ہے۔ اپنی سب بڑی رحمت کا ذکر کررہا ہے۔ اس دنیا میں عظیم ترین رحمت کا ذکر کرنے سے پہلے انسانوں کو متوجہ (Attentive ) اور متجسس (Eager) کرنے کے لیے وقفہ دینا ایک حکیمانہ عمل ہے. لہٰذا الله تعالیٰ نے اس وقفے کے بعد بتایا کہ اس کی رحمت یہ ہے کہ اس نے ہر انسان کو قرآن سمجھنے کہ قابل بنا دیا ہے. چاروں آیات کا مربوط ترجمہیہ آیات درج ذیل ہیں : ٱلرَّحۡمَـٰنُ ه عَلَّمَ ٱلۡقُرۡءَانَ ه خَلَقَ ٱلۡإِنسَانَ ه عَلَّمَهُ ٱلۡبَيَانَ ه قرآن ایک کلام ہے اور کلام علیٰحدہ علیٰحدہ جملوں کا مجموعہ نہیں ہوتا۔ بلکہ کلام میں ایک بات مکمل کی جاتی ہے، پھر دوسری بات شروع کی جاتی ہے، اسی طرح دوسری بات مکمل کرنے کے بعد تیسری بات شروع کی جاتی ہے۔ اگر علماء کی تاویلات سے خالی الذھن ہو کر اللہ تعالیٰ کے بیان پر نظر ڈالی جائے تو یہ صاف معلوم ہوتا ہے کہ ایک اور دو الفاظ پر مشتمل بیان کے یہ چار ٹکڑے علیٰحدہ علیٰحدہ نہیں ھیں بلکہ ایک مربوط (connected) بیان ہے۔ جو زورِ کلام کے اسلوب پر ہے۔ یہاں ایک بیان طاقتور (Forceful) طریقے سے پیش کیا گیا ہے۔ لہٰذا اس بیان کا مربوط ترجمہ کرنے کیلئے عطف (connector) اور فِلر (filler) الفاظ کی ضرورت پڑے گی۔ اس کا مناسب طریقہ یہ ہے کہ ان اضافی الفاظ کو قوسین (Bracket) میں لکھا جاۓ اس سے الله تعالیٰ کے الفاظ تبدیل نہیں ہوتے اور قاری دیکھ بھی سکتا ہے کہ رابطے مناسب لائے گئے ہیں یا نہیں۔ نیز ان الفاظ میں اگر کوئی غلطی ہوئی تو وہ مترجم کی غلطی شمار ہوگی، قرآن کی نہیں۔ عطف (Connector ) دو آیات کے مابین ربط پیدا کرنے کیلئے استعمال ہوتا ہے۔ جبکہ فلرز (filler) اس لیئے ہوتی ہے کہ بیان کے verbal اور nonverbal اجزاء ہوتے ہیں اور موخرالذ کر یغی nonverbal جزو تحریری بیان کے سیاق و سباق (context ) میں ہوتا ہے۔ مختلف لوگ مختلف قسم کے connectors اور fillers استعمال کرسکتے ہیں، شرط صرف یہ ہے کہ آیات میں

قرآن کا بیان عام فہم ھے۔ حصہ دوم Read Post »

Scroll to Top